نئی دہلی، 4جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی اور این سی آر میں 2000یا اس سے زیادہ سی سی کے ڈیزل ایس یو وی اور لگژری کاروں کے رجسٹریشن پر روک ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت مکمل کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔سماعت کے دوران مرسڈیز اور ٹویٹا نے کورٹ میں کہا کہ وہ گاڑی کی قیمت کا ایک فیصد گرین سیس دینے کو تیار ہیں کیونکہ پابندی سے ان کا خاصہ نقصان ہو رہا ہے کیونکہ باقی کمپنیاں 1995اور 1999سی سی کے ڈیزل کاریں بنا رہی ہیں۔وہیں مرکزی حکومت نے کسی بھی قسم کے سیس لگانے کی مخالفت کی۔مرکز کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ کار ساز کمپنیوں کا بہت پیسہ لگا ہے۔وہیں کام بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو روزگار بھی نہیں مل رہا ہے۔مرکزی حکومت اس معاملے میں غور کر رہی ہے اور جلد ہی ریسرچ اور ڈیٹا کی بنیاد پر ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرے گی۔مرکز نے ایک ڈرافٹ رپورٹ بھی تیار کیا ہے جس میں مالک 10سے 15سال کی پرانی گاڑیوں کو حکومت کو دیں گے اور حکومت ا سکریپ کرکے مالک کو ایک رقم دے گی۔سپریم کورٹ نے مرکز کو 6ہفتے میں رپورٹ داخل کرنے کو کہا ہے۔